اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حیدرآباد ( ) المہدی سنٹر جامشورو سے جاری ایک بیان میں اصغریہ آرگنائزیشن پاکستان شعبہ خواتین کی مرکز ی تعلیم وتربیت سیکرٹری محدثہ رضا نے دس رمضان المبارک رحلت بی بی خدیجہ الکبری کے حوالے سے تسلیت عرض کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی مالدار خاتون نے عالم غربت میں جان، جان آفریں کے سپرد کر دی اور رہتی دنیا تک پیغام دیا کہ خدا کے دین پر اپنی جان اور مال لٹا دینا چاہئے، اسلام آج بھی حضرت خدیجہ کی جان اور مال کا مقروض ہے۔سیدہ خدیجۃ کے بارے میں یہ تاریخی حقیقت بالکل سچ اور برحق ہے کہ آپ مالی حوالے سے عرب میں اس قدر مضبوط و مستحکم تھیں کہ زمانہ اسلام سے قبل ہی آپ کو اہل عرب ’’ملیکتہ العرب ‘‘ یعنی عرب کی ملکہ اور مالکہ کے لقب سے یاد کرتے تھے۔ عرب کی ملکہ نے کائنات کے سردار پر اپنی دولت وارفتگی سے لٹائی اور آپ ؑ فرمایا کرتی تھیں کہ کاش میرے پاس اور دولت ہوتی تو میں اسلام اور بانی اسلام پر لٹاتی رہتی تاکہ اسلام زیادہ سے زیادہ پھیلے۔ جناب خدیجہ نے جب حضور اکرم ؐ کو اپنا شریک حیات چن لیا تو اہل عرب اور حاسدین اس گھرانے کے خلاف ہو گئے یہاں تک کہ حضورؐ کا اس شدت سے اقتصادی بائیکاٹ کیا کہ حضرت ابو طالب ؑ اور ان کا گھرانہ یعنی سرور کائنات اور سیدہ خدیجۃ بھی کئی ماہ تک شعب ابی طالب میں محصور رہے۔ اور اس محصوری کے دوران اپنے چچا اور اپنی رفیقہ حیات کی قربانی اور ساتھ دینے کو حضور اکرم ؐ اکثر اوقات یاد فرماتے تھے۔حضرت خدیجہ نے زمانے کو خاتون جنت کی شکل میں تحفہ دیا اور اسلام و بانی اسلام کا تحفظ جان و مال لٹا کر کیا ۔ سیدہ خدیجہ الکبریٰ ہردور کی عورت کے لیے رہنما، مثال اور نمونہ ہیں۔ گھر کے اندر رہنے والی خاتون ہو یا گھر سے باہر امور انجام دینے والی خاتون ہو ہر کسی کو بی بی کی سیرت سے رہنمائی ملے گی۔۔ انہوں نے کہا کہ حضرت خدیجہ کا شمار تاریخ انسانیت کی ان عظیم خواتین میں ہوتا ہے، جنہوں نے انسانیت کی بقا اور انسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے اپنی زندگی قربان کر دی۔ معاشرہ خصوصا خواتین کو حضرت بی بی خدیجہ سے درس حاصل کرنا چاہیے۔
حضرت خدیجہ تمام اخلاقی فضائل و کمالات کی مالکہ تھی، خواتین عالم کو چاہیے کہ انہیں اپنے لیے نمونہ عمل قرار دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملیکتہ العرب، ام المومنین حضرت خدیجہ الکبری نے خواتین میں سب سے پہلے اسلام قبول کرکے اور تصدیق رسالت کرکے ایک دانشمند خاتون ہونے کا ثبوت دیا، پیغمبر اسلام نے ہمیشہ آپ کو ایک بافضیلت، متقی، مخلص خاتون بتایا کہ آپ ہر لحاظ سے کمالات کی مالک تھیں اور ہمیں آپ سے درس حاصل کرنا چاہیئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲